غزل
لچک رہی ہے جو ٹہنی گلاب کی تازہ
سبب بنی ہے مرے اضطراب کی تازہ
سہیلیوں میں انھیں بانٹۓ تفاخر سے
لکھوں میں مدحتیں عالی جناب کی تازہ
غرور کیجئے ججتا ہے آپ پر فطراّ
رَچی ہے حُسن پہ چاندی شباب کی تازہ
کِھلے کِھلے ہیں شگفتہ حسین لَب ایسے
نفیس کلیاں مہکتے گلاب کی تازہ
رَسد گِِری ہے جو ہنستی شریر آنکھوں کی
طلب بڑھی ہے پرانی شراب کی تازہ
نگاہِ ناز اُترتی چلی گئی دِل میں
کمال نوکِ پَلک آج آب کی تازہ
سیاہ زلف گھنیری، گداز سینوں کا
حسین یاد سنہرے شباب کی تازہ
بدل چکے ہیں جو کردار سب کہانی کے
تو لازمی ہے کتابت کتاب کی تازہ
لطیف شعر سماعت میں چاشنی گھولیں
غزل، نفیس، شگفتہ، شہاب کی تازہ
شہاب احمد
۲۴ مارچ ۲۰۲۶

136