| میں جفائے عشق میں مبتلا مری جاں پہ غم کا غبار ہے |
| میں ورق ورق ہوں پھٹا ہوا مرا حرف حرف بے زار ہے |
| مری بے زبانی کا راز کیا، مرے دل سے پوچھ کہ کیا ہوا |
| کہ سکوتِ لب کے لباس میں مری بے کسی کا مزار ہے |
| مجھے زخم اپنے عزیز ہیں کوئی آ کے مجھ سے نہ چھین لے |
| یہی درد میرا متاعِ کُل یہی سوز میری بہار ہے |
| میں ہوں آپ اپنی تلاش میں مجھے راستوں کی خبر نہیں |
| جسے ڈھونڈتا ہوں نگر نگر وہی مجھ میں زیرِ حصار ہے |
| مجھے موت سے بھی نہیں گلہ، مجھے زندگی نے تباہ کیا |
| کہ جو شخص مرنے سے بچ گیا، وہی زندگی کا شکار ہے |
| مجھے روشنی کی طلب نہیں مجھے تیرگی سے ہے واسطہ |
| میں چراغِ شب ہوں بجھا ہوا مری راکھ مثلِ غبار ہے |
| مری پیاسی دھرتی کو دیکھ کر کئی ابرِ نیساں گزر گئے |
| مری تشنگی کے نصیب میں فقط ایک دشتِ شرار ہے |
| مرے دل میں ایک خلش رہی جسے عمر بھر میں نہ پا سکا |
| وہی ایک نقطۂ بے نشاں مری جستجو کا مدار ہے |
| مجھے اپنی جاں سے ہے کیا غرض، مجھے تیری چاہ عزیز ہے |
| یہ شکستہ سازِ حیات بھی ترے نام ہی پہ نثار ہے |
معلومات