| تیرا ساگر اس جہاں میں یہ بسیرا |
| ریت کے بے نام ذرے کی طرح ہے |
| عمر بھر بھٹکے سکوں کی جستجو میں |
| ہر سفر صحرا کے رستے کی طرح ہے |
| اپنی ہستی پر نہ اتنا ناز کرنا |
| سانس اک مہمان لمحے کی طرح ہے |
| لوگ دنیا کو سمجھ بیٹھے ہیں منزل |
| وہ تو اک ویران میلے کی طرح ہے |
| آدمی اپنی انا میں مست ہے پر |
| وقت اک بے رحم جھونکے کی طرح ہے |
| نام باقی ہے فقط کردار سے ہی |
| ورنہ انساں اک فسانے کی طرح ہے |
معلومات