دراز کے پچھلے خانے میں
ایک پرانی چابی پڑی تھی۔
چھوٹی سی،
کناروں سے گھسی ہوئی،
زنگ کی باریک تہہ میں لپٹی،
اور سرے کے پاس
نیلے دھاگے کا ایک ٹکڑا بندھا تھا۔
میں نے اسے پہچان لیا۔
یہ اس گھر کی چابی تھی
جہاں شام ہوتے ہی
دروازہ اندر سے بند ہو جاتا
اور ہمیں معلوم ہو جاتا تھا
کہ سب لوگ واپس آ چکے ہیں۔
وہ گھر اب نہیں ہے۔
دروازہ بھی نہیں،
تالا بھی شاید
کسی کباڑی کی دکان میں
اپنی شکل بھول چکا ہوگا۔
صرف چابی رہ گئی ہے۔
میں نے اسے ہتھیلی پر رکھا
اور دیر تک دیکھتا رہا۔
عجیب بات ہے،
کبھی کبھی ایک چابی
اس دروازے سے زیادہ دیر زندہ رہتی ہے
جس کے لیے بنائی گئی ہو۔
پھر مجھے شہر یاد آیا۔
شام ڈھلے
کتنے لوگ جیب میں چابی لیے
اپنے اپنے دروازوں کی طرف لوٹتے ہیں،
اور کتنے لوگ
رات ہونے تک
صرف ایسی جگہ ڈھونڈتے رہتے ہیں
جہاں دستک دینے سے پہلے
انہیں سوچنا نہ پڑے۔
کسی کے پاس
ایک ہی گھر کی کئی چابیاں ہیں،
کسی کے پاس
صرف جیب ہے
اور اس میں
ایک بھی چابی نہیں۔
میں نے وہ چابی
میز پر رکھ دی۔
اب وہ مجھے
صرف اپنے پرانے گھر کی چیز نہیں لگتی تھی۔
اس میں بہت سے دروازے تھے—
کچھ ہمیشہ کے لیے بند،
کچھ پر نئے تالے،
اور کچھ کے باہر
لوگ دیر سے کھڑے تھے
مگر اندر
کوئی آہٹ نہیں تھی۔
رات کو
میں نے چابی دراز میں واپس نہیں رکھی۔
اپنی جیب میں ڈال لی۔
معلوم نہیں
وہ اب کیا کھول سکتی ہے۔
شاید کچھ بھی نہیں۔
مگر جیب میں پڑی ہوئی
وہ چھوٹی سی ٹھنڈی دھات
مجھے رات بھر یاد دلاتی رہی—
دروازے ختم ہو جائیں
تو چابیاں
صرف لوہا نہیں رہتیں۔

0
1