ہوں مبارک عید کی قربانیاں
ہو قبولیّت ملیں تابانیاں
کام تب آئیں گی یہ قربانیاں
دل سے جب مٹ جائیں گی شیطانیاں
دردِ دل پیدا ہو انساں کے لئے
دکھ مٹانے کی ہوں کارستانیاں
میزباں بن جائیں بھوکوں کے لئے
مائدہ سے ہوں گی پھر مہمانیاں
پیش کر دی جان بیٹے باپ نے
تب کہیں جا کر ملیں آسانیاں
جا کے پوچھیں ہم بھی تو ماں باپ کو
ان کی راحت کا کریں سامان یاں
نعمتیں کر دیں جو بن مانگے عطا
ہم نے دیکھیں ہر طرف رحمانیاں
سستیوں کو کر بھی دیتا ہے معاف
جانتا ہے ہم سے ہوں نادانیاں
اس طرف لوٹیں اسی میں خیر ہے
گر سلامت چاہئے ایمان یاں
جب وہ راضی ہو خدا طارق تبھی
جان لیں ہم پا گئے سلطانیاں

0
7