اپنے ہی گھر کو جلا کر روشنی کرنے لگے
اور کچھ سوجھا نہیں تو عاشقی کرنے لگے
آپ اپنے کو ذرا ہم دوست کیا رکھنے لگے
سب حواسِ ظاہری لو دشمنی کرنے لگے
یار نے جب سے کیا ہے آپ اپنے سے قریب
سارے سامانِ خودی اب دل کشی کرنے لگے
گفتگو جو آپ سے کرتے ہیں خود میں یارِ من
"آپ کی باتوں کو سن کر شاعری کرنے لگے"
خود میں ہو بے خود ذکؔی تم ہوش میں مد ہوش ہو
باتیں پھر خِردِ خودی کی کونسی کرنے لگے

0
3