| اپنے ہی گھر کو جلا کر روشنی کرنے لگے |
| اور کچھ سوجھا نہیں تو عاشقی کرنے لگے |
| آپ اپنے کو ذرا ہم دوست کیا رکھنے لگے |
| سب حواسِ ظاہری لو دشمنی کرنے لگے |
| یار نے جب سے کیا ہے آپ اپنے سے قریب |
| سارے سامانِ خودی اب دل کشی کرنے لگے |
| گفتگو جو آپ سے کرتے ہیں خود میں یارِ من |
| "آپ کی باتوں کو سن کر شاعری کرنے لگے" |
| خود میں ہو بے خود ذکؔی تم ہوش میں مد ہوش ہو |
| باتیں پھر خِردِ خودی کی کونسی کرنے لگے |
معلومات