| دل کا غبار ہنس کے اڑاؤ، نشے میں آؤ |
| اک شام زندگی کو مناؤ، نشے میں آؤ |
| دن بھر سنبھال رکھا ہے دنیا نے ہوش کو |
| اب ہوش کو بھی نیند سلاؤ، نشے میں آؤ |
| ہم سے خفا ہو، خیر، مگر اتنا تو کرو |
| نظریں اٹھا کے آنکھ ملاؤ، نشے میں آؤ |
| ہم نے تمام عمر حقیقت کے نام پر |
| جو خواب کھو دیے تھے، وہ لاؤ، نشے میں آؤ |
| یہ زندگی حساب میں گزری ہے عمر بھر |
| اک رات بے حساب مناؤ، نشے میں آؤ |
| کچھ فیصلے تو ہوش میں اچھے نہیں ہوئے |
| اک بار دل کی بات سناؤ، نشے میں آؤ |
| کل کس نے دیکھنا ہے، یہ معلوم ہے ہمیں |
| اس رات کو کچھ اور سجاؤ، نشے میں آؤ |
معلومات