| سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا |
| حیف کردار پہ تیرے ہے کہ گویا میں تھا |
| اصل اپنی کو بھلا بیٹھا، خدا بن جاتا |
| لا کے ساحل پہ تجھے جس نے ڈبویا میں تھا |
| مجھ کو ہر شخص کی بہبود کا رہتا ہے خیال |
| سر میں جس شخص کے سودا سا سمویا، میں تھا |
| عمر بھر کھوج رہی خود کو تلاشا کتنا |
| ہاتھ چھوٹا تھا مرا ماں سے کہیں کھویا میں تھا |
| کتنا آلودہ ہؤا جاتا ہے دامن میرا |
| رات احساسِ ندامت سے بھگویا میں تھا |
| کن مراحل میں رہی ساتھ، کہاں چھوڑ دیا |
| یارو تقدیر سے مل مل کے گلے رویا میں تھا |
| وقت کر دے گا ابھی فیصلہ اے دوست مرے |
| کون بے حس تھا ابھی "تم ہی" کہو یا "میں" تھا |
| اس نے پلکوں پہ مری پھر سے رکھی ہیں بوندیں |
| اپنے اشکوں سے ابھی آنکھوں کو دھویا میں تھا |
| آدھے رستے میں کوئی چھوڑ گیا ہے حسرتؔ |
| سکھ سے بیٹھا، نہ کبھی چین سے سویا میں تھا |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| یکم ستمبر، ۲۰۲۶ |
معلومات