| کسی تو پہلو سکوں ہے حاصل کسی تو پہلو قرارِ جاں ہے |
| حسین اپنا جو یار ہے تو رقیب اپنا بد استخواں ہے |
| ابھی بھی جینے کا حوصلہ ہے ابھی بھی ہمت مری جواں ہے |
| قفس ہی اپنا کہ گھر نہیں ہے چمن میں بھی ایک آشیاں ہے |
| بتائیں کیا ہم کسی کو حالت کہ دیکھنے سے ہی خود عیاں ہے |
| بھری ہوئی ہیں ہماری آنکھیں تو دل ہمارا کہ خونچکاں ہے |
| شراب پی کر میں پہلے ساقی نہ اس طرح سے کبھی تھا بہکا |
| ہے سر کے اوپر زمیں کیوں اپنے قدم کے نیچے کیوں آسماں ہے |
| زباں تو چپ ہے مگر سنو تو یہ دل کی دھڑکن جو کہہ رہی ہے |
| ابھی ہو آۓ ذرا تو بیٹھو ابھی نہ جاؤ کہ رت جواں ہے |
| نشست کی ہے نہ نظم کوئی تمہاری محفل میں کیوں یہ آخر |
| اِدھر ہوں میں اور اُدھر ہو تم تو عدو یوں کاہے کو درمیاں ہے |
| تو کیسے پھسلے نہ دل کسی کا چمن میں اک ایسا گل کھلا ہے |
| ہے روپ جس کا جو رشکِ لالہ شباب کہیے تو الاماں ہے |
| جہاں میں آکر کبھی بھی قادر نہ میں نے اپنی ہے جستجو کی |
| کہاں سے آیا ہوں میں نہ جانوں خبر نہیں لوٹنا کہاں ہے |
معلومات