الٰہی کیا قیامت یہ
تری دنیا میں برپا ہے
کہ ہر معصوم گل پر کیوں
ستم ہر سو ہی پھیلا ہے
وہ ماں کی آنکھ کا تارا
وہ باپوں کا سہارا تھی
کسی سفاک نے آ کر
اسے مٹی میں روندا تھا
تری بستی کے کوچوں میں
یہ خاموشی سی کیوں آخر
کوئی لب کھل نہیں پائے
یہاں ہر ظلمِ جاری پر
کبھی اک ماں کبھی بیٹی
کبھی بہنوں کی عصمت پر
ستم کی دھول اڑتی ہے
ہوس کی ان فضاؤں میں
یہ معصوموں کا بہتا لہو
تری چوکھٹ کا فریادی
تو عادل بھی تو قادر بھی
تو ہی ہر درد کا مولا
کوئی ایسی سحر بھی ہو
اندھیرا ختم ہو جائے
اٹھو اب وقت آیا ہے
ضمیر اپنا جگا ڈالو
بچا لو بنتِ حوا کو
یہی رب کا تقاضا ہے
سخن ساگر یہی سچ ہے
حیا انساں کا جوہر ہے

0
4