| شور ، خوف و ہراس رہتے ہیں |
| غم میں مختل حواس رہتے ہیں |
| رب سے گر التماس رہتا ہے |
| آنکھ میں مور طاس رہتے ہیں |
| ہجر کی دل کشی سے ظاہر ہے |
| چاند ، شب آس پاس رہتے ہیں |
| جاں ہتھیلی پہ گرچہ ہوتی ہے |
| پھر بھی رشتوں کے پاس رہتے ہیں |
| آگ و دریا ہے عشق کا ساتھی |
| سگ کہ موقع شناس رہتے ہیں |
| زہر پیتا ہے پیار خوش ہو کے |
| یار قاتل بھی خاص رہتے ہیں |
| یہ محبت عجیب ہے شاہد |
| دل جو مل کے اداس رہتے ہیں |
معلومات