ملنے ملانے کا جو سلیقہ بدل لیا
اور گفتگو کا سب سے طریقہ بدل لیا
بھٹکے نہ پاس کوئی سقیفائی اس لئے
اس ہی لئے تو ہم نے محلہ بدل لیا
جھوٹوں کی کر رہے ہیں سراسر جو پیروی
رنگ و نسل کے ساتھ عمامہ بدل لیا
ذکرِ علیؑ سے جن کو عداوت ہے مومنو
اماں نے ان کی لازمی ابا بدل لیا
سادات کا جو کرتے نہیں ہیں یہ احترام
دوری بھی کر لی اور یہ لہجہ بدل لیا
کرتے شرارتیں ہیں یہ کینہ بھی دل میں ہے
رشتہ بھی ختم کر دیا رستہ بدل لیا
سیّد بنے ہیں نسبتیں دے دے کہ جتنے لوگ
بد بخت و بد نصیب نے شجرہ بدل لیا
پڑھوا رہے ہیں پیسہ کھلا کے یہاں کلام
نام اپنا اونچا کرنے کو دھندا بدل لیا
صائب کو لوگ کہتے ہیں مغرور کیوں بھلا
حاسد سے کیونکہ اُس نے رویہ بدل لیا۔

0
2