مدحت کے لئے لفظ مجھے دان کرو ہو
مجھ پر مرے سرکار یہ احسان کرو ہو
ہر روز تصور میں بلاؤ ہو مدینے
ہر روز مرے درد کا درمان کرو ہو
آؤ ہو خیالات میں تزئینِ دو عالم
کوئے دلِ مہجور کو فرحان کرو ہو
ہاتھوں کو یہ تاثیر عطا کی ہے خدا نے
پتھر کو بھی تم لو لو و مرجان کرو ہو
قطرے کے سوالی کو عطا کر دو ہو دریا
ادنیٰ سے گداگر کو بھی سلطان کرو ہو
راکھو ہو مرے خون میں حسنین کی الفت
نس نس میں شہا نور کی باران کرو ہو
امت کے لئے مانگو ہو رو رو کے دعائیں
امت کے لئے جان کو ہلکان کرو ہو
کاغذ پہ اتر آؤ ہو منعوت کی صورت
کاغذ کو گلِ لالہ و ریحان کرو ہو
تم اپنے بھکاری کو عطا کر دو ہو اتنا
افراطِ عنایات سے حیران کرو ہو
اشفاق سے بے مول کا کیا مول پڑے گا
جبریل کو دربار میں دربان کرو ہو

0