عجیب لوگ ہیں نفرت انھیں سکھاتے ہیں
ہنر جو پیار کا گھٹی میں لے کے آتے ہیں
وہ جن کے ہاتھ میں پھولوں کے ہار ہوتے تھے
ہماری راہ میں کانٹے ابھی بچھاتے ہیں
جنہیں گھمنڈ تھا لوگوں کے دل ملانے کا
دلوں میں دوریاں وہ آج کل بڑھاتے ہیں
وہ دَور جا چکا جب لوگ جاں لٹاتے تھے
کہ زہر گھول کے امرت میں اب پلاتے ہیں
لبوں پہ حرفِ دعا دل میں بغض و کینہ ہے
منافقت کے مکھوٹے میں منہ چھپاتے ہیں
عادل ریاض کینیڈین

0
6