چرچے ہیں اب عام تمہارے
دیکھ رہا ہوں کام تمہارے
پیار جو دیکھا ان آنکھوں میں
ہم تو ہوئے بے دام تمہارے
ہجرت میری مجبوری تھی
پر جیون ہے نام تمہارے
جب بھی دل بے چین ہوا تو
پھر سے پڑھے پیغام تمہارے
ہم کو پکارے دیس کی مٹی
اور پکاریں جام تمہارے

0
3