| چرچے ہیں اب عام تمہارے |
| دیکھ رہا ہوں کام تمہارے |
| پیار جو دیکھا ان آنکھوں میں |
| ہم تو ہوئے بے دام تمہارے |
| ہجرت میری مجبوری تھی |
| پر جیون ہے نام تمہارے |
| جب بھی دل بے چین ہوا تو |
| پھر سے پڑھے پیغام تمہارے |
| ہم کو پکارے دیس کی مٹی |
| اور پکاریں جام تمہارے |
| چرچے ہیں اب عام تمہارے |
| دیکھ رہا ہوں کام تمہارے |
| پیار جو دیکھا ان آنکھوں میں |
| ہم تو ہوئے بے دام تمہارے |
| ہجرت میری مجبوری تھی |
| پر جیون ہے نام تمہارے |
| جب بھی دل بے چین ہوا تو |
| پھر سے پڑھے پیغام تمہارے |
| ہم کو پکارے دیس کی مٹی |
| اور پکاریں جام تمہارے |
معلومات