| زخم پہ زخم کھا رہا ہوں میں |
| کیسی دولت کما رہا ہوں میں |
| گھر نیا اک بنا رہا ہوں میں |
| اپنی ہستی مٹا رہا ہوں میں |
| سوگ کا ہے سما نہ ہو کیوں کر |
| خود کو دفنا کے آرہا ہوں میں |
| عالمِ مرگ چین دے مجھ کو |
| عالمِ خلق جا رہا ہوں میں |
| مسکراہٹ سے کام لیتا ہوں |
| زخم اپنے چھپا رہا ہوں میں |
| مسکرا کر ملیں گے وہ مجھ سے |
| خواب کیسے سجا رہا ہوں میں |
| کیا صبا تجھ کو چھو کے آئی ہے |
| تیری خوشبو سی پا رہا ہوں میں |
| اس کی چوکھٹ سے آنے والوں کو |
| پاس اپنے بٹھا رہا ہوں میں |
| ہر نۓ زخم کو سجا کر یوں |
| اپنے نغموں میں، گا رہا ہوں میں |
| روشنی سے میں خوف کھاتا ہوں |
| سب دۓ خود بھجا رہا ہوں میں |
| ان سے عشیار دور ہو کر یوں |
| ظلم خود پر ہی ڈھا رہا ہوں میں |
معلومات