| ہر ایک درد کا درماں نہیں ہوا کرتا |
| جو اپنی ذات کا عرفاں نہیں ہوا کرتا |
| جو اپنا آپ مٹا دے کرے محبّت وہ |
| ہر ایک عشق میں قرباں نہیں ہوا کرتا |
| وہ جس کو ڈھونڈتا پھرتا ہے آدمی ہر سُو |
| وہ دل سے اس کے تو پنہاں نہیں ہوا کرتا |
| چراغ دل کا جلائے تو کس طرح کوئی |
| یہ سب سے کارِ نمایاں نہیں ہوا کرتا |
| سکوتِ شب میں صدائیں سنائی دیتی ہیں |
| گماں یہ کارواں ہے واں نہیں ہوا کرتا |
| جو اپنے آپ سے ملنے کے فن کو جانتا ہے |
| کسی بھی طَور پریشاں نہیں ہوا کرتا |
| نرالا عشق کا دستور ہے جبھی طارِق |
| کوئی جدا ہو تو حیراں نہیں ہوا کرتا |
معلومات