کوئی پردہ تری آنکھوں سے بھی سَرکا ہوگا
آنکھ میں نور کا دریا تبھی پھیلا ہوگا
میں جسے اپنی تمنّاؤں کا حاصل سمجھوں
وہ مرا وہم بھی ہو گا تو وہ سچا ہوگا
خاک ہی میں کہیں پوشیدہ ہے اک رازِ ازل
ایک ذرّے کا بھی خورشید سے ناطہ ہوگا
عشق جب ترکِ خودی کا سبق آموز بنے
قطرہ بے نام بھی دریاؤں سے اونچا ہوگا
ہم نے مانا ہے زمانے کی نظر تیز بہت
دل کا آئینہ مگر ٹوٹ کے نکھرا ہوگا
یہ جو ہر سمت مرے ساتھ اندھیرا سا لگے
کوئی گم گشتہ ستارہ بھی تو میرا ہوگا
میں نے ہر شے میں اُسی حسن کا پرتو دیکھا
کوئی چہرہ کسی آئینے میں اُبھرا ہوگا
جس کو دنیا نے سمجھ رکھا ہے دیوانۂ عشق
وہی سرمست کوئی راز شناسا ہوگا
عمر بھر جس کی تجلّی کی تمنّا کی ہے
وہ مری روح کے نزدیک ہی بیٹھا ہوگا
اپنے سجدوں کا صلہ ڈھونڈنے والو سن لو
جو جھُکے مرتبہ اُس کا ہی تو اعلیٰ ہوگا
عقل کہتی رہی منزل ابھی آگے ہے بہت
عشق خاموش تھا منزل میں ہی رستہ ہوگا
اُس کی محفل میں کہاں نام و نسب پوچھتے ہیں
جو بھی کھو کر اسے پائے گا وہ اپنا ہوگا
درد جب حد سے گزر جائے دوا بن جائے
طارِق امّید کا در ایسے بھی کھلتا ہوگا
ڈاکٹر طارِق انور باجوہ لندن

0
5