بے طلب راستوں نے خطایا بہت
دنیا کے حادثوں نے ڈرایا بہت
پر نہ تھے اور میں صحرا میں آ گیا
جلتے صحرا بدن کو جلایا بہت
قلعہ رمال کا مت بنانا یہاں
سوچنا صحرا نے ہی سکھایا بہت
چلتے رہنے سے مل جاۓ گی منزل
افری بابا نے جذبہ بڑھایا بہت

87