چوٹ گہری نہ ہو سسکی نہیں آیا کرتی
کاغذی پھول پہ تتلی نہیں آیا کرتی
دوسروں کے لئے خود کو جو فنا کرتے ہیں
لب پہ ان کے کبھی شیخی نہیں آیا کرتی
کچھ سبب لازمی رہتا ہے الجھ جانے کا
یوں مگر بے وجہ تلخی نہیں آیا کرتی
عزم ہو پختہ ہمارے، ہو لگن بھی کامل
ورنہ کچھ کام میں چستی نہیں آیا کرتی
پیار کے بول ہو ناصؔر جو زباں پر جاری
رشتوں میں اپنے بھی دوری نہیں آیا کرتی

0
44