مجھے اُس کا اتنا ملال ہے، مرے پاس جو کبھی تھا نہیں
کہ ہو رنج کی بھلا کیا خبر، مجھے درد اتنا رہا نہیں
یہ سفر تو مجھ سے بعید ہے، نہ ہی رہنما، نہ ہی آشنا
میں پلٹ کے گھر بھی نہ جا سکوں، مجھے ایسے چھوڑ کے جا نہیں
وہ جو مجھ پہ پورا نہ کھل سکا، وہ جو مجھ سے دور ہی جا بسا
سبھی شعر اس کے ہی نام تھے، کِیا کیا غضب کہ سنا نہیں
کوئی شام میرے بھی نام کر، مری نیند مجھ پہ حرام کر
پڑھوں میں جو رخ کی کتاب کو، تجھے واسطہ ہے چھپا نہیں
وہی رنگ میں، کھلے روپ میں، ملے سائے میں، کڑی دھوپ میں
کبھی چاند تھا مرے بام کا، مگر اب وہ گھر کا دیا نہیں
جو حبیب تھا مرے اس طرف، تو طبیب دوجی طرف رہا
کہوں کیا کہ کیسے جتن کیے، مرا زخم ہے کہ بھرا نہیں
مجھے وحشتوں نے جکڑ لیا، کوئی جھوٹ اس نے جو گھڑ لیا
جو رشید تھا مرے بھاگ کا، وہ سکون پل کو ملا نہیں
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۱۲، اکتوبر، ۲۰۲۶

0
3