| واقف کوئی نہیں ہے عیسیٰ کی اُڑان سے |
| وہ اُترے گا کبھی نہ کبھی آسمان سے |
| مُلّا کی لن ترانیوں سے اللہ ہی بچائے |
| وہ تو نہ لوٹے ہے جو گیا اس جہان سے |
| جو بات عقل مانے وہ اے دل قبول کر |
| کیا فائدہ ہے ورنہ فقط اک گمان سے |
| صدیوں سے منتظر ہیں نگاہیں اُٹھی ہوئی |
| آنے کا جو نہیں ہے کبھی آسمان سے |
| قرآن کی صدا کو بھی سن اے خرد کے دوست |
| تو ناں سبق لے محض کسی داستان سے |
| جو مر گیا وہ لوٹ کے آتا نہیں یہاں |
| یہ راز پوچھ لے تو کسی بھی مَہان سے |
| دینِ خدا کو قصوں کا محتاج مت بنا |
| پہچان حق کو عقل کے روشن نشان سے |
| مُلّا اگرچہ وعظ میں طوفان باندھ دے |
| سچ پھر بھی چھپ نہ پائے گا لفظ و بیان سے |
| چولہ اتار تَلْبِیس کا اور پھر اے دوست |
| کچھ روشنی بھی مانگ ذرا اپنے دھیان سے |
| انسان کو خدا نے دیا عقل کا چراغ |
| پھر کیوں ڈرے ہے اس جہاں کے امتحان سے |
| ہر بات جو پرانی ہو لازم نہیں درست |
| سچ کی تو جانچ ہووے دلیل و برہان سے |
| تو حق کی جستجو میں حسن یہ بھی یاد رکھ |
| سچ کو نہ تولنا کبھی نام و نشان سے |
معلومات