شکستِ شب کا نوید نامہ، طلوعِ امکاں لہو کے قطرے
مٹا رہے ہیں فریبِ سلطاں، غرورِ ایواں لہو کے قطرے
نشانِ سوزِ نہاں، دلیلِ شکستِ ایواں لہو کے قطرے
نوائے محشر، صدائے بیدادِ اہلِ عصراں لہو کے قطرے
شکستہ تیغوں کی آبرو ہیں، جلالِ میداں لہو کے قطرے
سپہرِ ظلمت پہ بن کے اُبھرے شہابِ تاباں لہو کے قطرے
یہی ہیں سرمایۂ حیات و وقارِ دوراں کی آخری حد
زوالِ باطل کا استعارہ، عروجِ وجداں لہو کے قطرے
کسی کے گھر کی اذان روئی، کسی کا سجدہ لہو میں ڈوبا
لکھا گیا ہے نئی صدی کا بھیانک عنواں لہو کے قطرے
عدو کے نیزوں پہ رقص کرتے رہے پیامِ وفا سناتے
چراغِ باطن کو کر گئے ہیں سدا فروزاں لہو کے قطرے
کہ ہادیؔ تیرے سخن سے روشن ہے دشت امکاں و راز پنہاں
اذاں کی لے میں یہ ڈھل کے برسے صداۓ قراں لہو کے قطرے

0
10