| وفا کے رستے میں جو ملی ہیں، عداوتیں بھی شمار کرنا |
| جو ہم نے ہنس کر سہی ہیں اب تک، ملامتیں بھی شمار کرنا |
| وہ جن کے سائے میں کٹ گئی تھی ہماری عمرِ رواں کی خوشبو |
| بچھڑتے لمحوں کی وہ رسیلی حکایتیں بھی شمار کرنا |
| کبھی جو فرصت ملے تو دل کے شکستہ خانوں میں جھانک لینا |
| جو اس میں مدفون ہو چکی ہیں، وہ حسرتیں بھی شمار کرنا |
| تم اپنی جیتوں کے جشن میں تو مگن ہو لیکن مرے مسافر! |
| جو ہار کر میں نے تم کو دی ہیں، وہ راحتیں بھی شمار کرنا |
| کہا تھا عادلؔ نے ہجر کی اس کٹھن گھڑی میں یہ روتے روتے |
| محبتوں کے نصاب میں اب، ضرورتیں بھی شمار کرنا |
معلومات