خوب خدا کی صنعت کے شہکار ہوئے
اِنس، چرند، پرند ہوئے اشجار ہوئے
سب سے افضل اس نے بنایا نبیوں کو
حضرت احمد نبیوں کے سردار ہوئے
ایک خدا ہے جو ہر ایک کو دیتا ہے
اس قابل کب شاہوں کے دربار ہوئے
بیچ بھنور کے "انا" کے ہاتھوں ڈوبے تھے
عاجزی اور دعا سے بیڑے پار ہوئے
پیار محبت سے دنیا کو زیر کرو
یہ تو گویا مسلم کے ہتھیار ہوئے
دیس کی سرحد پر جو پہرا دیتے ہیں
سب کے سروں کے تاج وہ پہرے دار ہوئے
ارضِ وطن پر جان نچھاور کرتے ہیں
وہ گلشن کے پھول ہمارے ہار ہوئے

0
1