یار خوفِ خدا کیا کیجے
پیار کیجے تو بے ریا کیجے
زہر لگتے ہیں شہد آگیں لب
غیر کا نام مت لیا کیجے
چشمِ تشنہ ہے منتظر کب سے
چہرہ مجھ سمت دودھیا کیجے
ورنہ کیا سود ہے سماعت کا
شربتِ گفتگو پیا کیجے
غیر کو اذنِ دخل کیوں کر ہو
آپ کی عمر خود جیا کیجے
سنگِ قلبِ قمرؔ پگھل جائے
اس پہ بھی چشمِ کیمیا کیجے
قمرآسیؔ

0
1