| دماغ و دل ہمیشہ مختلف رستوں پہ چلتے ہیں |
| اسی اک کشمکش میں بس مرا نقصان ہوتا ہے |
| تمنا وہ عجب شے ہے کبھی مرتی نہیں دل سے |
| پنپتی ہے کہ جیسے موج کا طوفان ہوتا ہے |
| جہانِ رنگ و بو میں جب بھی تنہائی میسر ہو |
| مری بے چارگی کا بس یہی سامان ہوتا ہے |
| مجازی سے حقیقی تک سفر ہے کامیابی کا |
| اسی رستے میں رب سے ملنے کا امکان ہوتا ہے |
| لٹا جو عشق کے رستے میں اس کو تم نے دیکھا ہے؟ |
| مسافر چند روزہ بے سر و سامان ہوتا ہے |
| اگر قوسِ قزح کے رنگ خوابوں میں اُترتے ہوں |
| حسیں منزل کی جانب اولیں گلدان ہوتا ہے |
| کہاں پر ،کس کو ،کتنی کب توجہ کون دیتا ہے ؟ |
| پتہ ہوتا ہے دل کو پر بنا انجان ہوتا ہے |
معلومات