مومنو! اک دوسرے کی بدگمانی چھوڑ دو
جاہلوں والی ارے علت پرانی چھوڑ دو
دوسروں کے لفظ تو اپنی زباں سے مت سنا
ان کی ہر اک بات کی تم ترجمانی چھوڑ دو
وسوسہ ڈالے اگر شیطان تو انکار کر
ہر کسی کے واسطے زَبَاں چلانی چھوڑ دو
حسنِ ظن سے زندگی میں آنے گی واللہ بہار
بدگمانی۔ کی یہ ساری راجدھانی چھوڑ دو
جس سے ٹوٹے دل کسی کا، وہ رویہ مت رکھو
اپنے لفظوں سے کسی کو ٹوھ کرانی چھوڑ دو
نیک بننے کا بڑا پیارا عمل ہے دوستو
دل سے کینہ، بغض کی ہر اک کہانی چھوڑ دو
آئینے کے مثل ہو گی زندگی تیری عتیق
لوگوں کے کردار پر انگلی اٹھانی چھوڑ دو

0
3