غالبی انداز میں ادنیٰ سی کوشش
دلوں میں خواب ہوں لیکن نگاہوں سے دھواں نکلے
ہر اک چہرہ یہاں کیوں آئینہ سا بے زباں نکلے
لبوں پر ذکرِ مولا ہو دلوں میں شورِ خواہش بھی
عجب انسان ہے یہ کس طرح اس کا چلن نکلے
بہ رنگِ آگہی کتنے ہی زہر افشاں ہوئے جن کے
وہی اہلِ جہاں میں پیشوائے انجمن نکلے
میں اپنی ہی نظر کے روبرو حیرت میں گم سا ہوں
مرے ادراک سے آگے کوئی بادِ سخن نکلے
نہ کچھ کہنے پہ بھی دل کا سکوت آخر شکستہ ہو
میں شمعِ سوز ہوں تو کیوں نہ میرا ہر جلن نکلے
طلسمی شہر میں کھوئے ہوئے لوگوں کا عالم یہ
جو تھے اپنے ہمیشہ سے وہ ہی دشمن وطن نکلے
یاں ہر اک شب کے سناٹے میں اک ہنگامہ پوشیدہ
دلِ افسردہ میں کیوں کر یہ ہنگامہ سخن نکلے
وہ اک آواز جو روکے ہوئے تھی لغزشوں کی راہ
وہی اب نفس کے ہاتھوں اسیر و بے کفن نکلے
شبِ گمراہ میں دن بھی نظر آئے لہو میں تر
ہر اک منظر یہاں کیوں صورتِ داغِ کہن نکلے

0
7