| نہیں تھا اپنے گماں میں بھی ایسا ویسا وقت |
| کہ گزرا نقل مکانی میں جیسا جیسا وقت |
| ۔ |
| خدا کرے ترے دل کو لگے نہ اس کی ہوا |
| خدا کرے کہ تو دیکھے نہیں مجھ ایسا وقت |
| ۔ |
| اے مہرباں نہ دے ہم کو دعائے عمرِ دراز |
| وہ کم ہے کیا کہ گزارا ہے ہم نے جیسا وقت |
| ۔ |
| اگر وہ دوست پرانا کہیں ملے بھی تو کیا |
| نہ اب وہ پیار ، نہ وہ دوستی نہ ویسا وقت |
| ۔ |
| یہ اپنے اپنے مقدر کی بات ہوتی ہے |
| ہرایک کو نہیں ملتے سکون ، پیسہ ، وقت |
معلومات