بھلا میں کوسوں کسی کو کیوں کر، ستم زدہ بھی, میں خود ستم گر
کسی کا میں نے ہے کیا بگاڑا، تو کیوں کرے کو ئی ظلم مجھ پر
ضرر ہی کیا ہے کہو تو اس میں، پھروں میں یونہی جو در بدر گر
رکھوں کسی سے میں کیوں عداوت، مرا عدو ہے مرا مقدّر
مجھے سمجھتے ہو تم بھی پاگل، جو دیکھتے ہو یوں ہو کے ششدر
کبھی بدلتا ہے وقت تیور تو چھوڑ جاتے ہیں لوگ اکثر
یاں سہل تھوڑی ہے عشق کرنا بہت ہی گہرا ہے یہ سمندر
یہ داستانِ الم ہے کس کی، ہو کس کہانی کو لے کے بیٹھے
نہ طول دو اب سمیٹو قصہ، تھکے نہیں ہو ابھی مبشر!

0
1