| تجھ کو جب دیکھا مرے دل کو قرار آنے لگا |
| میرے اندر بھی کوئی موسم بہار آنے لگا |
| تیری آنکھوں میں بھی کچھ ایسی کشش دیکھی کہ اُف! |
| دیکھتے ہی اس کو ، مجھ کو تجھ پہ پیار آنے لگا |
| وہ جو تھا اک شخص کل مجھ سے خفا سا ہو گیا |
| یاد مجھ کو آج کیسے بار بار آنے لگا |
| یہ تو مانا عشق میں کچھ بھی یقیں ممکن نہیں |
| تیرے وعدوں پر مگر تھا اعتبار آنے لگا |
| فاصلہ رکھا تو دل پھر ہو گیا نزدیک تر |
| اور پھر تیری گلی دیوانہ وار آنے لگا |
| تیری ہی آواز میں کچھ بات ایسی تھی کہ پھر |
| میں بھی یہ خاموش سا دل تجھ پہ ہار آنے لگا |
| میں نے تیرے بعد خود کو جب اکیلا کر لیا |
| روز تیری بزم میں یہ جاں نثار آنے لگا |
| عشق نے طارِق سکھایا زندگی کا یوں سبق |
| جو نہ تھا قابو میں اس پر اختیار آنے لگا |
معلومات