مُرشِد سِکھا رہے ہیں، مُرشِد چَلا رہے ہیں
گو لاکھ ہیں نِکمے، مُرشِد نِبھا رہے ہیں
اِن کے ہی دم سے اپنی، بِگڑی بنی ہوئی ہے
بھٹکے ہُوؤں کو سیدھا، رَستہ دِکھا رہے ہیں
اِن کے ہی دم سے ہم کو، عِزّت مِلی ہوئی ہے
اَدنیٰ سے اَدنیٰ کو بھی، سینے لگا رہے ہیں
دُکھ درد کے ہیں مارے، ہم کو دَوا میں مُرشِد
دے کر غَمِ مدینہ، سب غم مِٹا رہے ہیں
یُوں عاصیوں کے دِل میں، خوفِ خُدا بٹھایا
عصیاں شِعار دیکھو، آنسُو بہا رہے ہیں
دُنیا کے مال و دولت، کے پیچھے تُم نہ بھاگو
یہ زُہد و تقویٰ کے ہاں، موتی لُٹا رہے ہیں
اِصلاح کر لو زیرکؔ، اپنی بھی دُنیا بھر کی
مقصد یہ نیک مُرشِد، سب کو سِکھا رہے ہیں

0
4