کیا ہوا حاصل مجھے آخر بگڑ کر
مے سے ہوں محروم ساقی سے میں لڑ کر
بزم میں اس کی گۓ تھے ہم اکڑ کر
کھینچ کر باہر کیا اس نے پکڑ کر
مہرباں ہو جائیں وہ بے حد کبھی تو
اور کبھی رہ جائیں ہتے سے اُ کھڑ کر
خواب میں بھی ہم نے یہ سوچا نہیں تھا
لوٹ جاۓ گا وہ اتنا آگے بڑھ کر
ہو گیا جو عشق میری کیا خطا ہے
حسن وہ جادو جو بولے سر پہ چڑھ کر
اس طرح سے اب منائیں گے تمہیں ہم
رہ نہ پاؤ گے تم اپنی ضد پہ اڑ کر
کوئی پیاروں سے نہیں اپنے جدا ہو
پیڑ سے کوئی گرے پتا نہ جھڑ کر
تو نے محفل میں کیا جو حال میرا
رہ گیا شرمندگی کے مارے گڑ کر
یہ ہوا معلوم ہے قاصد سے مجھ کو
پھاڑ دیتے ہیں مرا ہر خط وہ پڑھ کر
زخموں میں اب دل کے روزن ہو گۓ ہیں
بن گۓ ناسور میرے زخم سڑ کر
دل میں اپنے لائیے مت کچھ کدورت
لوگ تو کرتے ہیں باتیں یوں ہی گھڑ کر
کس لۓ میں نے کیا تھا عشق جانے
رہ گیا ہوں کس مصیبت میں میں پڑ کر
پاس رکھنا مت مری کوئی نشانی
پھاڑ دینا تم مرے ہر خط کو پڑھ کر
میں کہ اک آزاد پنچھی تھا فضا کا
رکھ دیا ہے عشق نے مجھ کو جکڑ کر

0
4