حرفِ حق کہنے میں سہنے پڑے خنجر کتنے
ہم نے دیکھا ہے بدلتے ہوئے منظر کتنے
یوں تو دریا میں اترتے ہیں شناور کتنے
باہر آتے ہیں لئے ہاتھ میں گوہر کتنے
جن کے سینوں میں فقط ذکرِ اَحد گونجا تھا
اُن کے سینوں میں اتارے گئے خنجر کتنے
جب سے موسم نے خموشی کی ردا اوڑھی ہے
چپ سے رہتے ہیں پرندے مرے اندر کتنے
میں نے حق بات کہی مصلحتوں سے نہ ڈرا
ریزے ریزے ہوئے سر پر مرے پتھر کتنے
یوں تو ہر سمت نظر آتے ہیں اونچے شانے
دیکھنا یہ ہے کہ ان شانوں پہ ہیں سر کتنے

5