دیکھنے میں جو وہ اِک شخص خدا لگتا ہے
ہوگا انسان بھی وہ کیا تجھے کیا لگتا ہے
جھڑکیاں، طعنے ، حقارت بھرے جملے اُنکے
سہ تو لیتا ہوں مگر یار برا لگتا
سب سمجھتے ہیں کہ موسم کا کرم ہیں اس پر
پت جھڑوں میں وہ جو اک پیڑ ہرا لگتا ہے
اس کی ہی ذات سے بنتے ہیں اندھیروں کے بھنور
مدتوں تک جو ہمیں اپنا دیا لگتا ہے
میں نے پوچھا کہ فقیری مری قسمت میں ہے کیا
ایک درویش نے ہنس کے تھا کہا "لگتا ہے"

0
3