گستاخِ محمد کو شیطان کہا جائے
بد بخت امیہ ہے فی النار کیا جائے
سنت پہ عمل پیرا ہم فاتحِ خیبر کی
اس دور کے مرحب سےکھل کربھی لڑا جائے
کردارِ رسالت پر انگلی جو اٹھاتا ہے
سر تن سے جدا اسکا بر وقت کیا جائے
رحمت ہے دو عالم کی قرآن میں آیت بھی
انکار جسے بھی ہو دوزخ میں چلا جائے
ناموسِ رسالت پر جاں اپنی نچھاور ہے
اعلان کیا جائے جب تک بھی جیا جائے
جو دشمنِ زہرا سے کرتا ہے رواداری
اس شخص کو ممبر سے بس دور رکھا جائے
حرمت پہ محمد کی سو بار فدا صائب
صلوٰت بِنا کیسے یہ نام لیا جائے۔

0
2