حائل تھے بہت مسئلے آغاز سے پہلے
کٹے ہوۓ پرَ تھے مرے پرواز سے پہلے
مشکل تھا بہت پھیلے ہوۓ صحرا کا رستہ
پستی تھی بہت دیکھے ہوۓ افراز سے پہلے
لینا تو چھپا ہجر کے دل سوز لمحے
دینا تو دبا دکھ زرا ایجاز سے پہلے
رکھنا تو زرا زادِِ سفر باندھ کے افری
چلنا ہی پڑے گا تجھے آواز سے پہلے

2
115

0

0