اعلیٰ بلند یوں پر جن کا مقام ہے
اُن پر درودِ ربی آتا دوام ہے
ہستی کے بس میں کب ہے مدحت جناب کی
کرتا ثنا نبی کی رب کا کلام ہے
ارفع کیا خدا نے ذکرِ لبیب کو
ڈنکا دہر میں اونچا جن کا مدام ہے
شیریں ہے شہد سے جو ہے نامِ مصطفیٰ
اُن پر درود دائم بے حد سلام ہے
محبوب جان و دل سے ہیں مصطفیٰ جسے
سب سے غنی یہ بندہ اُن کا غلام ہے
جن کے فدا کو حاصل ہیں کامرانیاں
اعلیٰ ملا خدا سے اُس کو مقام ہے
محمود دان کھائے آلِ کریم سے
اعمال میں یہ کچا ناقص ہے خام ہے

0
4