| یاد جب بھی نبی کو کرتا ہوں |
| عرش کی راہ سے گزرتا ہوں |
| آنکھیں جب نم ہوں فکرِ احمد میں |
| حق نے فرمایا نور بھرتا ہوں |
| دل کا عشقِ نبی سہارا ہے |
| میں سمٹتا ہوں گر بکھرتا ہوں |
| ڈوب جاتا ہوں عشقِ احمد میں |
| نقشِ حق بن کے پھر ابھرتا ہوں |
| یہ نتیجہ ہے یادِ احمد کا |
| میں سنورتا ہوں اور نکھرتا ہوں |
| مجھ سے عشقِ نبی نے فرمایا |
| درد ہو دل میں تو اُترتا ہوں |
| میرا مٹنا مُحال کیوں ہے ذکیؔ |
| زندہ رہنے نبی پہ مرتا ہوں |
معلومات