شب کو اک بار کھل کے روتا ہوں
چین کی نیند پھر میں سوتا ہوں
اشک دل میں سنبھالتا ہوں میں
بیج یوں میں وفا کے بوتا ہوں
میرے آنسو کبھی نہیں رکتے
میں ہمیشہ وضو سے ہوتا ہوں
ساتھ رکھتا نہیں میں زادِ سفر
جسم لاغر ہے یہ ہی ڈھوتا ہوں
ہوتا جاتا ہوں اس سخی کے قریب
جیسے جیسے غریب ہوتا ہوں

0
5