| جو بہروپ ساتھی تھے شام و سویرے |
| چلے کر کے تنہا مجھے یار میرے |
| انہیں ہوگئی چل کر آنے سے نفرت |
| وہ جب پھول راہوں پہ ہم نے بکھیرے |
| نہ جینے دیا چھین لی ساری خوشیاں |
| ملے زندگی میں بہت سے لٹیرے |
| یہ یادیں معطر ہیں تیری مہک سے |
| خیالوں میں ہر سو ترے ہیں بسیرے |
| کہیں ڈال کر چل دیئے مجھ کو حامی |
| جہاں ہر طرف ہم سفر ہیں اندھیرے |
معلومات