| تارا! شہاب تم کو بنایا ہمیں نے تھا |
| یہ صحنِ ماہتاب سجایا ہمیں نے تھا |
| کر کے خطا گنوایا تھا لذّت کا اک جہاں |
| پھر اپنا آپ ڈھونڈ کے لایا ہمیں نے تھا |
| گزرے ہیں اس کے پار تو ثابت ہؤا ہے یہ |
| سدرا میں پیڑ بیرِیں لگایا ہمیں نے تھا |
| مانا کہ ہم میں وعدہ شکن بھی ہیں لوگ کچھ |
| وعدے پہ کنبہ سارا لٹایا ہمیں نے تھا |
| کس نے بنایا قیسؔ کو لیلیٰؔ کا مدح خواں |
| ظاہر ہے دل میں درد جگایا ہمیں نے تھا |
| نعرہ لگا کے ہم نے منادی جنوں کی، کی |
| پھر سچ کا گیت جھوم کے گایا ہمیں نے تھا |
| بیٹھے ہیں جس کے سائے میں آرام سے ابھی |
| مدّت ہوئی ہے پودا اگایا ہمیں نے تھا |
| لپٹی پڑی تھی جانے کہاں پر تری زمیں |
| پھر مثلِ جا نماز بچھایا ہمیں نے تھا |
| مسند پہ لا کے ہم نے بٹھایا جنہیں رشیدؔ |
| پروانہ ان سے موت کا پایا ہمیں نے تھا |
| رشید حسرتؔ، کوئٹہ |
| ۰۶، اکتوبر، ۲۰۲۶ |
معلومات