| میں بھی کبھی کربلا، ایک نظر دیکھ لوں |
| عشقِ خدا میں فنا، دشت و نگر دیکھ لوں |
| رحمتِ عالم ہیں جو، ہیں جو نبی آخری |
| ان کے نواسے کا میں رختِ سفر دیکھ لوں |
| ہے یہی خواہش مری خواب میں میرے خدا |
| فاطمہ زہرا کا میں لختِ جگر دیکھ لوں |
| حوصلے نے آپ کے، کی یہ کہانی رقم |
| صبر و رضا کی نئی راہ گزر دیکھ لوں |
| چشم فلک نے کبھی ظلم یہ دیکھا نہ تھا |
| کربلا کی خاک میں اس کا اثر دیکھ لوں |
| وہ جو نہیں جھک سکا، چڑھ گیا نیزے پہ جو |
| پھر بھی تلاوت کناں، کس کا ہے سر دیکھ لوں |
معلومات