| دور جانے کے دن اب قریب آ گئے |
| زخم کھانے کے دن اب قریب آ گئے |
| گاہےگاہے کا ملنا بھی چھن جائے گا |
| دیکھ کر تجھ کو کھلنا بھی چھن جائے گا |
| میری غزلوں کی تاثیر مر جائے گی |
| روح نظموں کی پرواز کر جائے گی |
| تیرے ہونے کا احساس کھو جائے گا |
| گویا گلشن تو برباد ہو جائے گا |
| کس کو دیکھیں گے ہم روشنی کے لیے |
| کیا بچے گا بھلا زندگی کے لیے |
| تیرا گایا ہوا وہ سہانا سا گیت |
| تجھ کو سننے کا بس اک بہانہ سا گیت |
| گنگناتے پھریں گے تری چاہ میں |
| تجھ سے ملنے کی اک خواب سی راہ میں |
| صبر کہتے ہیں جسکو وہ کب آئے گا |
| لوٹ کر جب تو آئے گا تب آئے گا |
| میرے جیسے ملیں گے تجھے ہر قدم |
| تیرے جیسا تو بس ایک تو ہے صنم |
| میرے دامن میں تیرے سوا کچھ نہیں |
| روشنی بن کہ جیسے دیا کچھ نہیں |
| جانا لازم جو ہے تو مری عرض مان |
| ساتھ لے جا ہتھیلی پہ رکھی یہ جان |
معلومات