جنوں کی آگ میں جلنا ہوا ہے کیوں لازم
کمالِ شوق میں مرنا ہوا ہے کیوں لازم
دہکنا حسنِ گلِ تازہ کی طرح لیکن
مثالِ کاہ سلگنا ہوا ہے کیوں لازم
شکستگی کی گرانی بجا سہی لیکن
خود اپنے سائے سے ڈرنا ہوا ہے کیوں لازم
میں کج ادا ہوں تو آپ اپنے روپ میں ہوں
کسی کے روپ میں ڈھلنا ہوا ہے کیوں لازم
ہمیشگی کی تمنا ہمیں تو تھی ہی نہیں
یہ بار بار کا مرنا ہوا ہے کیوں لازم
رہِ نجات اگر مستقیم تھی تو بتا
یہ پل صراط پہ چلنا ہوا ہے کیوں لازم
مثالِ جنتِ فردوس ہے تو واضح ہے
کہ ہم پہ گھر سے نکلنا ہوا ہے کیوں لازم

0
6