اسی چھت پر ستاروں کو کبھی دیکھا
گماں کب تھا کہ ان کی لو مسافر ہے
بہت پہلے کبھی نکلی ہوئی ہوگی
مگر کس کو خبر، وہ اب کہاں ہوگا
مرے اندر وہی بچپن چمکتا ہے
جسے میں نے بہت پہلے بھلا ڈالا
نہیں معلوم - میں اس کا تسلسل ہوں
مگر اب بھی مری آنکھیں اسی کی ہیں

0
1