عِشق میں یہ کون دیکھے نُور ہے یا نَار ہے
عاشق و مَعشوق کا ایک ہی دَربار ہے
ایک حُسن و عِشق ہیں اور ایک ہی بُنیاد ہے
حُسن میں اِظہار ہے تو عِشق میں اَسرار ہے
عِشق میں اِک یار ہو، وہ یار ہی سَرکار ہو
عِشق کے مَیدان میں تَفریق سے اِنکار ہے
دو جہاں کا نُور اُس کے رُوپ کا بہروپ ہے
کامِلوں کے رُوپ میں سرکار کا دیدار ہے
اَصل سب کی ایک ہے، جو نیک و بد کی ٹیک ہے
خَیر و شَر کے واقعے کو، حَرفِ کُنْ درکار ہے
جلوہ گاہِ جانِ جاناں سجدہ گاہِ عاشقاں
عاشقی میں قِبلہ کعبہ آستانِ یار ہے
مُجھ میں میرا یار ہے وہ یار ہی دَرکار ہے
ایک ہَمْرا دائرہ اور ایک ہی پَرکار ہے

0
23