| عرفان اپنی ذات کا پانے میں جل گیا |
| اپنے ہی گھر کا دیپ جلانے میں جل گیا |
| دنیا کو روشنی کی تھی حاجت سو عمر بھر |
| میں اپنی ذات شمع بنانے میں جل گیا |
| جو جل رہے تھے دھوپ میں سایہ دیا انہیں |
| بن کے شجر میں سایہ سجانے میں جل گیا |
| سچ بولنے کی دی گئی اتنی کڑی سزا |
| الزام شہر بھر کا اٹھانے میں جل گیا |
| نفرت کے شہر میں کوئی دیوارِ امن ہو |
| اک اینٹ اپنے خوں سے لگانے میں جل گیا |
| جس کو بھی درد تھا وہ مرے پاس آ گیا |
| میں سب کا درد دل میں بسانے میں جل گیا |
| لوگوں نے میرے صبر کو کمزوری کہہ دیا |
| جرأت میں ان کو اپنی بتانے میں جل گیا |
| اپنے خلاف بولنے والوں سے کیا گلہ |
| آئینہ تھا سو عکس دکھانے میں جل گیا |
| منزل نے مجھ کو راستے میں روک کر کہا |
| میری طرف تو ہر کوئی آنے میں جل گیا |
| جو کچھ بھی میرے پاس تھا بانٹا خوشی کے ساتھ |
| جو بھی تھا شوق دل کے خزانے میں جل گیا |
| زخموں کا کاروبار تھا دنیا میں ہر جگہ |
| مرہم وفا کی ڈھونڈ کے لانے میں جل گیا |
| مصروف یوں تھا آنکھ کے پانی سے عمر بھر |
| “میں دوسروں کی آگ بجھانے میں جل گیا” |
| طارق چراغ بن کے جلا روشنی ہوئی |
| حاسد حسد کی آگ لگانے میں جل گیا |
معلومات