جو کبھی ہوتی تھیں دل میں چاہتیں باقی نہیں
روح میں بھی پیار کی وہ لذتیں باقی نہیں
وہ مرا بچپن مرا کوچا مری سب یاریاں
وقت ان کو لے گیا وہ الفتیں باقی نہیں
دل مرا ناکامیوں کی جاگتی تصویر ہے
جان دے کر جو کمائیں راحتیں باقی نہیں
گو نہیں ممکن تجھے یوں بھول جانا بھی مگر
یاد کرنے کی مجھے اب عادتیں باقی نہیں
کیسے یادوں کے دریچے بے سکوں کرنے لگے
رابطوں میں اب تو ویسی شدتیں باقی نہیں
آرزو ہے یاد رکھی جائے اپنی زندگی
آدمی کے پاس لیکن فرصتیں باقی نہیں
آ نہیں پائے اگر ہم ایک دوجے کے قریب
یہ بھی کافی ہے دلوں میں نفرتیں باقی نہیں

0
5